اُڈپی 26؍دسمبر ( ایس او نیوز) ملپے بندر سےسات مچھیروں کو لے کر گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لئے نکلنے والی بوٹ’سورنا تریبھوجا‘ جو پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی ہے ، دس دن گزر جانے کے بعد بھی اس کے تعلق سے کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
15دسمبر کی رات کو گوا اور مہاراشٹر ا کے سمندرمیں رتناگیری کے قریب اس کشتی کی موجودگی معلوم ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے یہ ماہی گیر کشتی کہاں چلی گئی اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔لاپتہ کشتی میں چندرا شیکھر نامی کشتی مالک کے علاوہ ملپے کے ۲، کمٹہ کے۲، بھٹکل کے ۲اور ایک ماہی گیر ہوناور تعلقہ کے منکی کا موجود ہے۔ پہلے خبر آئی تھی کہ کشتی میں ۸ افراد موجود ہیں، مگر بعد میں معلوم ہوا ہے کہ ایک ماہی گیر کسی سبب سے کشتی میں سوار نہیں ہواتھا۔
محکمہ ماہی گیری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پارشوناتھ نے بتایا کہ کشتی لاپتہ ہونے کی خبر ملتے ہی منگلور کوسٹ گارڈز حرکت میں آگئے تھے۔ اب گوا اور مہاراشٹرا کے کوسٹ گارڈزکی ٹکڑیاں بھی تلاشی میں جٹ گئی ہیں۔اس کے علاوہ پولیس کا عملہ بھی اپنے طور پر تلاشی مہم میں لگاہوا ہے۔ مگر ابھی تک کہیں سے بھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
ماہی گیروں کی انجمن کے صدر ستیش کندر نے بتایا کہ ان کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ ایس پی ، ڈی سی ، محکمہ ماہی گیری اور رکن اسمبلی کو میمورنڈم دیاگیا ہے۔ ایس پی نے گوااور مہاراشٹرا میں کوسٹ گارڈز سے رابطہ قائم کیاجس کے بعد دو ہیلی کاپٹر مغربی ساحلی علاقے میں لاپتہ کشتی کی تلاشی مہم میں لگادئے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس بوٹ کو کلر کوڈنگ کی گئی ہے اس لئے اس کا پتہ بہت آسانی سے چلنا چاہیے تھا۔
اس دوران سابق وزیر ماہی گیری پرمود مادھو راج نے افسران نے ملاقات کرکے ایمرجنسی پیمانے پر لاپتہ کشتی اور اس میں موجود ماہی گیروں کے لئے تلاشی مہم چلانے کی درخواست کی ہے۔اس کے علاوہ ان مچھیروں کو اغوا کیے جانے کی بھی گنجائش رہنے کی وجہ سے سابق وزیر نے رتنا گیری اور سندھو درگ کے پولیس سپرنٹنڈٹس سے درخواست کی ہے کہ اس زاویے سے بھی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔
معلوم ہوا ہے کہ تلاشی مہم کا رخ گہرے سمندر کے علاوہ سمندر سے ملنے والی بڑی بڑی ندیوں کی طرف بھی موڑ دیا گیا ہے ۔ کسی دہشت گردانہ کارروائی یا اغوا کیے جانے کے پہلو کو کوسٹ گارڈ نے امکان سے باہر کی چیز قرار دیا ہے کیونکہ جس وقت کشتی لاپتہ ہوئی ہے وہ کوسٹ گارڈ کی نگرانی والے علاقے میں ہی موجود تھی۔ا س بات کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے کہ اگر کسی وجہ سے کشتی غرقاب ہوگئی ہوتی تو اس کا کوئی نہ کوئی حصہ سمندر میں تیرتا ہوا نظر آنا چاہیے تھا۔ جبکہ کوئی بھی چیز سمندر کے پانی میں تیرتی ہوئی اب تک دستیاب نہیں ہوئی ہے۔